ابنا: بظاہرتویہ بات بڑی اچھی دکھائی دیتی ہے مگرمولانا صاحب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اس اقدام کے لئے کوئی گرین لائن معین نہیں کی ، اس ہدف تک پہنچنے کے لئے کوئی مشخص راستہ معین نہیں کیایہاں تک کہ اس پلیٹ فارم پر آنے کے لئے کوئی انٹری شرائط بھی واضح وروشن نہیں کیں،نتیجہ میں آج تک مولانا صاحب ان شکوک و شبہات کابھی دفاع نہیں کرپائے کہ د فاع پاکستان پلیٹ فارم بھی ایجنسیوں کی گیم ہے۔
مولاناصاحب کے پاس یہ تک واضح نہیں کہ پاکستان کا دوست کون ہے اورپاکستان کا دشمن کون ہے جس سے اجتناب کیا جائے فی الحال ہدف فقط کمیت ہی دکھائی دے رہا ہے کہ کسی طرح تعداد بڑھ جائے کہ اتنے محب وطن لوگوں کواکھٹاکرلیاگیاظاہرسی بات ہے کہ پاکستانی قوم محب وطن ہے لہذامحدود سوچ کی کچھ جماعتیں مجبورہوئیں کہ خود کومحب وطن ثابت کرنے کے لئے اس پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں توکچھ لوگ اپنے ملک دشمن دھبے کو چھپانے کے لئے فرنٹ سیٹ تک پہنچنے کی کوشش میں لگ گئے اس طرح سے جب پکی ہوئی کھچڑی ایجنسیوں کے ہاتھ لگ جائے تو ایسی مفت کی کھچڑی کو کس طرح سے نظرانداز کیاجاسکتا ہے۔
بہرحال اس سلسلے میں مولانا سمیع الحق صاحب نے جب ملت جعفریہ کے علماء سے رابطہ کیا تو ملت جعفریہ کے دور اندیش علماءے کرام نے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہارکیامگربجائے اس کے مولانا صاحب ان خدشات کودورکرتے اور ملت جعفریہ کے علماء کی ہدایات پر اپنا راستہ معین کرتے اندھیرے کی وادی میں گامزن رہے نتیجہ میں وہ ہی ہونا تھاجس کا انتظارتھا۔ ملتان جیسے اسلام کے ثقافتی شہرمیں دفاع پاکستان کونسل کے نام پر مکتب تشیع اورہمسایہ ملک کے خلاف نعرہ بازی کی جاتی رہی اوردفاع پاکستان کونسل کے اجلاس میں انہی کا کنٹرول دکھائی دیاجن کے ہاتھ سیکڑوں محب وطن کے خون سے رنگیں ہیں جنہوں نے پاکستان کی سالمیت کو اپنے داؤ پرلگا رکھا ہے اوروہ لوگ اجلاس پراتنے حاوی تھے کہ مولانا صاحب کوانہیں روکنے کی جرأت تک نہ ہوئی ۔
ہمارے خیال میں اس جلسے کے بعدمولاناصاحب کو ہوش کے ناخن لیناچاہئیں اوراس قسم کے ملک دشمن عناصرکودفاع پاکستان کونسل سے نکال باہرکریں اور برأت کااعلان کرتے ہوئے ملت تشیع سے معافی مانگیں اورانہیں ہم مزید مشورہ دیں گے کہ اگرواقعا آپ دفاع پاکستان میں مخلص ہیں توپہلے پاکستان کی تاریخ کابغورمطالعہ کریں کہ پاکستان کے بنانے میں کس قوم کا زیادہ خون پسینہ خرچ ہواہے ،کس قوم نے اپنا سرمایہ لٹاکر پاکستان بنایا تھااورآج بھی اسی قوم کے علماء و عوام ملک کی سالمیت کے لئے جنازوں پرکھڑے ہوکرصبر کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جب اس حقیت تک پہنچ جائیں تواسی قوم کے ذریعے اپنے مشن کے خدوخال معین کریں نیزانہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ملت تشیع کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی تمام سعی وتلاش ادھوری ہوگی اورکبھی بھی اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
........
/169